کسان اور سانپ

محمد اختر انصاری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر ایک بادشاہ بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ حکومت کررہا تھا۔ رعایا خوشحال تھی، بادشاہ اپنے حامیوں اور وزیروں، مشیروں کی کارکردگی سے بہت مطمئن تھا۔ ایک دن بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ اُس کی خواب گاہ کی چھت میں ایک لومڑی اُس کے بستر کے عین اوپر اپنی دُم سے بندھی لٹک رہی ہے۔ جب بادشاہ کی آنکھ کھلی تو اُس نے اُس خواب کا مطلب سمجھنے کی بہت کوشش کی لیکن اُسے کچھ سمجھ نہ آیا اور تعبیر کا کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ صبح کو اُس نے دربار میں اپنے وزیروں اور مشیروں سے اُس خواب کی تعبیر پوچھی لیکن کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ بادشاہ نے اپنے ملک میں اعلان کروادیا کہ جو کوئی بادشاہ کے اس خواب کی درست تعبیر بتائے گا اُسے دولت سے مالا مال کردیا جائے گا۔ اس اعلان کو سُنتے ہی بہت سے لوگوں نے بادشاہ کے دربار میں آکر اُس کی تعبیر بتانے کی کوشش کی لیکن بادشاہ کو اُن کا جواب تسلی بخش معلوم نہ ہوا۔ ایک دن ایک مفلس کسان اپنی قسمت آزمانے کے لئے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے کے لئے گھر سے چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ سوچتا جارہا تھا کہ بادشاہ کے خواب کی کیا تعبیر ہوسکتی ہے۔ اُس کے راستے میں ایک تنگ پہاڑی درہ پڑتا تھا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے اُس نے دیکھا کہ تنگ سے راستے کے عین درمیان میں ایک بڑا سا سانپ اپنا پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ کسان پریشان ہوگیا کہ اب کیسے گزرے۔ جب کافی دیر کے بعد بھی سانپ راستے سے نہ ہٹا تو کسان نے سانپ سے التجا کرنی شروع کردی کہ برائے مہربانی وہ اُس کے راستے سے ہٹ جائے اور اُسے اپنی قسمت آزمانے کا موقعہ دے۔ سانپ نے کسان سے پوچھا کہ وہ اتنا پریشان کیوں ہے اور کس مہم پر نکلا ہے۔ کسان نے اُس سانپ کو بادشاہ کے خواب والا واقعہ سنا کر کہا کہ وہ اگر اُس کی تعبیر جانتا ہے تو اُس کی مدد کرے۔ سانپ نے کسان سے کہا کہ وہ وعدہ کرے کہ بادشاہ کی طرف سے خواب کی تعبیر بتانے پر جو انعام و اکرام اُسے ملے گا وہ اُس میں سے آدھا حصہ سانپ کو دے گا۔ کسان نے وعدہ کیا کہ اُسے بادشاہ کی طرف سے جو بھی انعام و اکرام ملے گا وہ سیدھا سانپ کے پاس لے آئے گا اور آدھا حصہ ضرور اُسے دے گا۔ اس پر سانپ نے کہا کہ جاؤ اور بادشاہ کو بتاؤ کہ اُس کی سلطنت میں دھوکہ اور بددیانتی پھیل رہی ہے اور اُس کے محل میں غداری کی سازش پنپ رہی ہے۔

کسان نے بادشاہ کو جاکر اُسے سانپ کی بتائی ہوئی خواب کی تعبیر بتائی۔ کسان کی بات بادشاہ کے دل کو لگی لیکن اُس نے اُس کی تصدیق کے لئے کسان کو اپنا شاہی مہمان ٹھہرا لیا اور اپنے جاسوسوں کے ذریعے سے رپورٹیں منگوائیں تو پتا چلا کہ واقعی اُس کے کئی افسران بددیانتی اور دھوکے کے مرتکب رہے تھے اور غداری کی ایک بھیانک سازش اُس کے دربار میں پنپ رہی تھی۔ اس کی اس تفتیش سے کسان کی خواب کی تعبیر بالکل سچ ثابت ہوئی۔ بادشاہ نے کسان کو بہت زیادہ انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔ انعام اور اکرام سے لدا کسان جب واپس جارہا تھا۔ اُسکے دماغ میں لالچ پیدا ہوگیا کہ اتنی زیادہ دولت میں سے آدھا حصہ وہ کیوں سانپ کو دے لہذا اُس نے راستہ تبدیل کرلیا اور کسی دوسرے راستے سے ہوتا ہوا اپنی بستی میں چلا گیا۔

کچھ مدت کے بعد بادشاہ کو ایک اور عجیب سے خواب نے پریشان کیا۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک ننگی تلوار اُس کی خواب گاہ میں عین اُس کے سونے والے پلنگ کے اوپر لٹک رہی ہے۔ بادشاہ اس خواب سے بہت پریشان ہوا اور اس کی تعبیر پوچھنے کے لئے اُس نے دوبارہ اُسی کسان کو بلانے کا حکم دیا۔

بادشاہ کے حکم کے مطابق کسان اپنے گھر سے روانہ ہوگیا لیکن وہ کوئی نجومی تو تھا نہیں۔ لہذا بہت پریشان ہوا کہ وہ خواب کی تعبیر کیسے بتائے گا۔ خواب کی تعبیر تو اُسے سانپ نے بتائی تھی لیکن اُس نے سانپ کو دھوکہ دیا تھا اُسے اُس کا حصہ نہیں دیا تھا۔ اب تو سانپ بالکل تعبیر نہیں بتائے گا لیکن کسان مجبوراََ پھر اُس راستے پر چل پڑا جب اُس جگہ پہنچا جہاں اُسے سانہ ملا تھا تو اُس نے زور زور سے سانپ کو آواز دی۔ کافی آوازوں کے بعد سانپ اپنے بل سے نکلا۔ کسان نے اپنے پچھلے کیے پر ندامت کا اظہار کیا اور بولا کہ سانپ اُسے معاف کردے۔ آئندہ وہ اُسے دھوکہ نہیں دے گا اور اُسے دوسری خواب کی تعبیر بتا دے۔ سانپ کو اُس پر ترس آگیا اور اُس نے اس وعدہ پر کہ اب وہ اُس کا حصہ ضرور اُسے دے دے گا۔ اُسے کہا کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ بادشاہ کے محل کے دربار اور اُس کی سلطنت میں اُس کے دشمن پھیل گئے ہیں اور اُس کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ کسان بھاگا بھاگا بادشاہ کے دربار میں گیا اور اُسے تعبیر بتائی۔ بادشاہ نے حسب سابق اُسے شاہی مہمان ٹھہرایا اور اپنے خاص لوگوں کے ذریعے سازشوں کا پتہ کروایا۔ اُسے یہ جان کر بہت حیرانگی ہوئی کہ واقعی اُس کے دشمن لڑائی کے لئے تیار تھے اور اُس کے اپنے دربار اور ملک میں بھی اُس کے قتل کے منصوبے بنائے جارہے تھے۔ بادشاہ نے فوراََ ان سازشوں کا سدباب کیا۔ اپنی فوجوں کو دشمن کے خلاف روانہ کیا اور کسان کو ایک دفعہ پھر اس تعبیر پر بہت سارا انعام و اکرام دے کر رخصت کیا اور اپنی رعایا اور سلطنت کے لئے بہت سے اچھے اقدامات کیے۔ کسان انعام و اکرام لیکر گھر جارہا تھا تو راستے میں وہ سانپ اپنا پھن پھیلائے کھڑا تھا کہ وعدہ کے مطابق وہ اُس کا حصہ دے۔ لیکن کسان نے اُس کو اُس کا حصہ دینے کی بجائے اپنی تلوار نکال لی اور سانپ کو مارنے کے لئے اُسکی طرف دوڑا۔ سانپ فوراََ بھاگ کر اپنے بل میں گھس گیا۔ کسان نے بھاگتے ہوئے سانپ کی دم ہی زخمی کردی اور پھر مزے مزے سے اپنے گھر کو روانہ ہوگیا۔

کچھ مدت کے بعد بادشاہ کو پھر ایک عجیب سا خواب آیا کہ اُس کی چھت سے ذبح کی ہوئی ایک بھیڑ لٹک رہی ہے۔ بادشاہ نے فوراََ پھر اُسی کسان کو بھلا بھیجا کہ آئے اور اُس خواب کی تعبیر بتائے۔ اب کسان بڑا پریشان ہوا کہ دوبار تو سانپ نے مدد کردی تھی لیکن اب تو وہ بالکل کچھ نہیں بتائے گا لیکن کسان کے پاس کوئی اور چارہ بھی تو نہیں تھا لہذا وہ اُسی راستے پر چل پڑا اور سانپ کے بل کے پاس پہنچ کر گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا اور اونچی اونچی آواز میں سانپ کو پکارنے لگا کہ اب وہ اُسے بالکل دھوکہ نہیں دے گا اور اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ آخر سانپ کو ترس آگیا اور اُس نے پھر وعدہ لیا کہ کسان ضرور اسے اس کا حصہ دے گا۔ سانپ نے خواب سن کر کہا کہ جاؤ بادشاہ کو بتاؤ کہ اب اُس کی سلطنت میں امن ہی امن ہوگا۔ لوگ بھیڑوں کی مانند رہیں گے، امن پسند ہوں گے اور آپس میں پیار محبت سے رہیں گے اور دھوکہ اور سازشیں نہیں کریں گے۔

بادشاہ نے کسان سے اپنے خواب کی تعبیر سنی تو بہت خوش ہوا اور حسب سابق اُسے پہلے سے بھی زیادہ انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔ کسان اپنا انعام و اکرام لے کر اس دفعہ سیدھا سانپ والے راستے کی طرف گیا۔ سانپ اُس کا منتظر تھا۔ کسان نے اپنا تمام انعام و اکرام سانپ کے سامنے ڈھیر کردیا اور پھر بڑی عاجزی سے معافی مانگنے لگا کہ وہ اُسے اُسکی سابقہ غلطیوں پر معاف کردے۔

سانپ بولا کہ تمہیں کوئی افسوس نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی پریشان ہونا چاہئے کیونکہ تمہارا کوئی قصور نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ جب تم یہاں آئے تو اس وقت تمام لوگ دھوکے باز اور جھوٹے تھے۔ انعام حاصل کرنے کے بعد تم نے بھی میرے ساتھ دھوکہ بازی کی اور دوسرے راستے سے گھر چلے گئے۔ دوسری مرتبہ ہر طرف جنگ اور فساد کا دور دورہ تھا اور لوگ آپس میں قتل و غارت گری پر آمادہ تھے تو تم بھی بغیر کسی وجہ سے مجھ سے اُلجھ پڑے اور مجھے زخمی کردیا۔ اب جبکہ بادشاہ کی سیاسی بصیرت اور بہتر معاشی پالیسیوں کی بدولت ہر طرف امن و امان اور خوشحالی ہے اور لوگ نفرت بھول کر پیار سے رہنے لگے ہیں تو تم بھی تمام تحفے تحائف لے کر میرے پاس آگئے ہو اور مجھ سے حصہ بانٹنے کے لیے تیار ہو۔ جاؤ خدا کی تم پر رحمت ہو مجھے تمہاری دولت کی ضرورت نہیں ہے۔

ہر دور میں انسانوں کا آپس میں برتاؤ اور رویہ اُس دور کے مجموعی حالات سے مشروط ہوتا ہے اور کسی بھی ملک کے مجموعی حالات اُس کے حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے ابتر ہوجاتے ہیں۔ اقرباء پروری سے اور بے جا رعائتوں اور سختیوں سے پورا ماحول سازشی ہوجاتا ہے اور سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کی بہتری سے مجموعی حالات شاندار ہوجاتے ہیں۔ لوگ اُس ماحول کے عادی ہوتے ہیں جو اُس کے ارد گرد ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *