ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن ڈرنے والے نہیں:سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ججوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن وہ ڈرنے والے نہیں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ بات جمعرات کو حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران تین رکنی بینچ کے سربراہ اعجاز افضل نے کہی۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس بات سے کوئی خوف نہیں ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق مقدمے کے نتائج کیا ہوتے ہیں لیکن اداروں کو ڈرانا دھمکانا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی ٹیم سپریم کورٹ نے منتحب کی ہے اس لیے عدالت عظمی کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔
جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے دور حکومت میں ہمیں دھمکایا جارہا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم فرشتے تو نہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر کام قانون کے مطابق ہو۔‘
بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے استفسار کیا کہ بچوں کو تقصان پہچانے کی دھمکیاں کون دیتا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بزدل شخص ایسی دھمکیاں دیتا ہے جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ بزدل نہیں بلکہ کسی گینگ سے تعلق رکھنے والا شخص ہی ایسا کرتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ نے تین نومبر سنہ2007 کو اس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا مقابلہ کیا تھا اور عدلیہ کسی کی دھمکیوں میں نہیں آنے والی ہے۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے مستعفی سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ اُنھوں نے اپنی تقریر میں کسی ادارے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ عمومی طور پر بات کی تھی اور عدلیہ یا پاناما لیکس سے متعلق تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے کہے پر شرمندہ ہیں اور عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں۔

نہال ہاشمی نے اُمید ظاہر کی کہ عدالت اُنھیں معاف کردے گی تاہم عدالت نے اُن کی درخواست منظور نہیں کی اور اُنھیں توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے پانچ جون تک جواب داخل کروانے کی مہلت دی ہے۔

مزید جانئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *