ایک میچ کے بدلے کیا کیا کھویا ؟

یہ ایک عجیب میچ تھا. ہر کھیل میں ایک طرف جیتنے والے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والے ہوتے ہیں. لیکن اس میچ میں دونوں طرف ہارنے والے لوگ موجود تھے . شاید ان کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا ہار رھیں ہیں اسی لئے کسی نے اپنی ہار کو پہچانا ہی نہیں

میچ سے کچھ دن قبل تک ہر جگہ اس میچ کے بارے میں ہی تذکرہ ہو رہا تھا. ہر طرف اس میچ کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں. کسی شخص کو کچھ اور نظر نہیں آ رہا تھا سواے میچ کے. میں نے شروع میں اس میچ پر اتنا غور نہیں کیا کیونکہ میری نظر میں یہ ایک عام میچ تھا جس کو اپنے اپنے فائدے کے لئے ہر بندہ استمال کر رہا تھا. پھر ایک دن اچانک سے میں نے ٹی وی پر حکومتی ارکان اور باقی اور حضرات کو یہ کہتے سنا کہ اس میچ سے دہشتگردی ختم ہوگی، مہنگائی کم ہوگی، بیروزگاری میں کمی ہو گی، لوڈشیڈنگ کم ہوگی، انصاف عام ہوگا، ملک میں امن آۓ گا، ہر ٹی وی چینل پر ہر شخص صرف یہی کہہ رہا تھا کہ ہم دنیا کو امن کا پیغام دینے جا رہے ہیں

یہ باتیں سن کر میری دلچسپی اس میچ میں بڑھنے لگی ، کیونکہ میں بھی ہر عام پاکستانی کی طرح ان ہی مسائل کا حل چاہتا تھا. اور میں بھی اس میچ کا شدت سے انتظار کرنے لگ گیا. ساتھ ساتھ دل میں اس بات کا خیال بھی آتا رہا کہ ایک میچ سے یہ سب مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟ پر جب میں نے اپنے ملک کے لوگوں کو میچ کی ٹکٹیں خریدتے دیکھا تو میرے دل سے وہ خیال غائب ہو گیا. کیونکہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کو سپورٹ کر رہے ہیں تو یقینا اس میچ سے ہمارے ملک کو فائدہ ہوگا، آخر اتنی زیادہ عوام بوقوف تو نہیں ہے. ہم لوگوں نے ٹکٹس کی مد میں سولہ کروڑ روپے خرچ کیے. پہلے حیرانگی تو ہوئی کے ہم اپنے ملک کے غریبوں کے ساتھ کیا مذاق کر رہے ہیں پھر میں یہ سوچ کر چپ ہو گیا تھا آخر یہ یہ جو مسائل ہیں یہ غریب کے لئے ہی ہیں اور اسی کو حل کرنے کے لئے تو ہم یہ سب کر رہے تھے

اب شدت سے فائنل کا انتظار کر رہا تھا ٹی وی پر میچ کے لئے لڑکیوں کی بے حیائی، اور تمام اسلام خلاف چیزوں کو بھی نظر انداز کرنے تک تیار تھا میں کیونکہ انتظار تھا تو اپنے دنیا کے مسائل حل کروانے کا، الله کی ناراضگی کی خیر ہے کیونکہ الله کو تو ہم نماز پڑھ کر راضی کربھی لیں گیں. اور ہمارے ملک کے تمام ادارے اس میچ کے پیچھے لگ گئے، تمام سرکاری دفاتر خالی ہو گئے سب اسی کو پرامن کروانے میں لگ گئے جسکی وجہ سے میرا تھوڑا جو شک تھا وہ بھی یقین میں بدل گیا. اور ہم سب اس ملک کے تمام مسائل کے حل ہونے کے انتظار میں بیٹھ گئے

میچ شروع ہونے سے کچھ دن پہلے پتہ چلا سب علاقے کو بند دیا ہے. اس میچ کے لئے پورے علاقے میں کرفیو کا سا سما تھا، حالت یہ تھی کے حکمرانوں نے اس علاقے میں موجود میں مساجد بھی بند کروا رکھی تھی. اور لوگوں نے اپنی نمازوں کو ایک میچ کے عوض بیچ دیا تھا اور اپنے مسائل کو میچ کے زریعے حل کروانے میں لگ گئے. اور اس بات کو سمجھنے والا کوئی نہیں تھا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟

خیر پھر میچ کا دن آ گیا اور ہم نے دیکھا کہ جن لوگوں نے ہمیں سنہرے خواب دیکھاہے تھے ہم نے مسائل حل ہونے سے پہلے ہی ان کے خلاف اسٹیڈیم میں ہی نعرے لگانے  شروع کر دیے. کیونکہ ہمارے دل میں کہیں یہ بات چھپی تھی یہ لوگ ہمارے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟ میچ کے بیچ میں بھی ہم ان کو گالیاں دیتے رہے

پھر جب میچ ختم ہوا تو میں بہت خوش تھا. اسی خوشی کے عالم میں تھا کے اچانک سے لائٹ چلی گئی. اگلے دن میں گھر کا سامان لینے گیا تو مہنگائی اسی طرح تھی، دہشتگردی بھی اسی طرح عروج پر تھی، عدالتوں کا نظام ویسا ہی تھا، غرض کے کچھ نہیں بدلہ تھا

میں بہت پریشان ہوا اور یہ سوچنے پراور یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اس میں سارا قصور ہمارا اپنا ہے. لوگوں نے اپنےپیسا بنایا اور نکل گئے. ہم ادھر کے ادھر ہی کھڑے رہے. پیسا بھی ضائع کیا، الله کو بھی ناراض کیا ، لوگوں کو بھی مشکلات دیں، حاصل کیا ہوا کچھ بھی نہیں. ہم نے اس میچ سے حاصل کچھ نہیں کیا پر کھویا بہت کچھ جو کہ شاید واپس نہیں آ سکتا. مسجد حرام میں نماز کے لئے طواف رک سکتا ہے اور ہم نے یہاں میچ کے لئے نماز کو ہی روک دیا ہم نے اپنا بہت نقصان کیا جس کو ہم آج بھی ماننے کے لئے تیار نہیں

(محمد عثمان)