شہر کی صفائی کرنے کی سزا ملنے پر مجرم فرار

صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے شہر علی پور میں تین افراد کو سٹی پولیس نے گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا نشہ کرنا اور چرس بیچنا۔ سال بھر کی تفتیش کے بعد مقدمہ درج ہوا اور مزید ایک سال بعد سیشن عدالت نے فیصلہ سنایا۔

سزا ملی کہ شہر کی صفائی کرو، وہ بھی ایک سال تک اور سزا پر عمل درآمد کروانا اپنے آپ میں ایک چیلنج تھا۔

ملزمان قیصر عباس، فیاض حسین اور محمد یوسف نے اقرار جرم کیاـ پہلی بار جرم کرنے اور چرس کی کم مقدار برآمد ہونے کی بنا پر جج نے انھیں سخت سزا یا قید کی بجائے سماجی خدمات کا حکم دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج فواد عارف نے ’ویسٹ پاکستان پروبیشن آف افینڈرز‘ 1960 کے تحت ہر مجرم کو دو ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال تک علی پور شہر میں صفائی کرنے کی سزا دی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کیس کے سرکاری وکیل غلام یاسین نے اس انوکھی سزا کے پیچھے سوچ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں ایسی سزا پہلی دفعہ نہیں دی گئی بلکہ 2014 میں بلوچستان کے چیف جسٹس نے سیکشن پانچ کہ تحت مجرموں کو پروبیشن پر بھیج کر ایک نئی روایت قائم کی تھی۔‘

کوئٹہ کے اس کیس میں مجرمان نے مارخور کا شکار کیا تھا جس کی سزا کے طور پر عدالت نے انہیں 25 درخت لگانے کا حکم دیا تھا۔

غلام یاسین نے بتایا کہ ’ان کو شہر کی نالیاں یا گٹر صاف کرنے کو نہیں کہا بلکہ ان سے گراؤنڈ میں مالی کا کام لیا جا سکتا ہے، پودے لگوانا یا صفائی کروانا لیکن اس کا فیصلہ تو میونسپل کمیٹی ہی لے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ قیصرعباس اور ان کے ساتھیوں کو تین الگ مقدموں میں صفائی کرنے کی سزا ملی تاکہ مجرم معاشرے سے جڑ سکیں اور ان کے نشے کی لت چھوٹ جائے۔

مزید جانئے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *