آخر اس بربادی کا سبب کیا ہے ؟

آج تک ہم سنتے آۓ ہیں کے پاکستان ہمارے بڑوں نے اس لئے بنایا کے پاکستان ایک آزاد مختار ریاست ہو گی. جہاں الله اور اس کے رسول کی بتائی گئی تعلیمات کے مطابق قانون ہوگا اور ہم اچھی زندگی گزاریں گیں

 ہونا بھی ایسا چاہیے تھا پر بد قسمتی سے بعد میں آنے والوں نے یہ سوچا کے اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا تھا اور ہم اکیسویں صدی میں جی رھیں ہیں تو اسلام ہماری رہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟ دنیا بہت ترقی کر گئی ہے ہمیں بھی دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے ہے

تو ہم نے اسلام کو مولویوں کے حوالے کر کے اپنے ملک کو آگے بڑھانا شروع کیا. اور اس بات کی وضاحت کی گئی کے آپ لوگ ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرو گے اورہم دین کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گیں. اور اسی طرح ہم ملک کو ترقی کی طرف لے کر جانے کی کوشش میں لگ گئے

اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ اگر کوئی مولوی پاکستان کی بات کرتا ہے تو ہمارے حکمران کہتے ہیں کی آپ کا کام دین کو سمبھالنا ہے آپ ملک کو نہیں سمبھال سکتے . اور جب کوئی حکمران یا کوئی عام بندہ دین کی بات کرنے کی کوشش کرتاہے تو مولوی حضرات بجاے دین سکھانے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو دین کا نہیں پتاآپ سیاست کریں اور ملک پر توجہ دیں. لیکن اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو وقت کا جو حکمران ہوتا تھا وہ سب سے بڑا مولوی ہوتا تھا

پر زیادہ بدقسمتی کی بات یہاں یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات اپنے اپنے اختیارات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کے حکمرانوں میں مولویوں کو تنخواہوں پر بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے. اپنی ضروریات کے مطابق فتوے لینا شروع کر دیے ہیں. اصل میں ہم لوگ بربادی کی طرف جاناشروع ہو گئے. ہم اپنی اس بربادی کو دیکھ کر بھی اندیکھ کر رہے ہیں

آج وہ وقت آ گیا ہےکہ مولوی دوسرے مولوی کے خلاف ہو گیا اور حکمران دوسرے حکمران کے خلاف ہو گیا. اور ہر بندے نے اپنے اپنے الگ مولوی رکھ لئے اور ان کو یہ کام دیا کہ ایک دوسرے پر فتوے دیے جائیں. اور مولوی بھی دین سے اتنا دور ہو گئے ک انہوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کے ملک کو ہم دین کے بغیر اچھے طریقے سے چلا سکتے ہیں

آج جن چیزوں کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہر انسان بیشک مسلمان ہو یا غیر مسلم سب کو معلوم ہے. لیکن ہم ان چیزوں کو دیکھ کر بھی اندیکھا کر دیتے ہیں. کیونکہ ہمیں احساس دلانے والا کوئی نہیں ہےکہ یہ ہم غلط کر رھیں ہیں. اور اگر کوئی  یہ احساس دلانے کی کوشش  بھی کرتا ہے تو ہم اس کو جاہل کہہ کراور یہ کہہ کر چپ کروا دیتے ہیں کہ آپ کی سوچ بہت تنگ ہے، آپ کو دنیا کے ساتھ چلنا نہیں آتا

آج ایک باپ فخر کے ساتھ اپنی اس بیٹی کے ساتھ مارکیٹ میں گھومنے جاتا ہے جسے شاید پردے کا مطلب بھی نہ پتہ ہو. ارو وہ شاید اس بات پر خوش ہوتاہے کہ لوگ اس کی بیٹی کو دیکھتے ہیں پسند کرتے ہیں. اورپردہ نہ کرنے کو آزاد خیالی کی آڑ میں بھول جاتا ہے

اور اسی کے برعکس اگر کوئی پردہ کرنے والی لڑکی کہیں نوکری کی تلاش میں نکلے تو صرف اس وجہ سے نوکری نہیں ملتی کیونکہ وہ پردہ کرتی ہے. اور یہ تاثر دیا جاتا ہے وہ جدید دنیا کو نہیں جانتی اور اس کی ساتھ نہیں چل سکتی. پر اصل میں اس کو اس دنیا سے کوئی غرض نہیں ہوتی

ہم نے ایسے ہزاروں پروگرامز دیکھیں ہونگے جس میں مولانا صاحب کسی بھی لڑکی کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور صرف اس بات پر اختلاف کرتے ہیں جس کے لئے پیسے دے کر شو میں بلایا گیا ہوتاہے. ایک بار بھی وہ بات نہیں کرنی ہوتی کے سمجھایا جائے آپ کو کپڑے پہن کر ساری دنیا کے سامنے بیٹھی ہو یہ غلط ہے

مثال کے طور پر میں کسی پروگرام کا نام نہیں لوں گا پر میں نے ایک ایسا پروگرام دیکھا جس کا عنوان تھا بسنت منانا جائز ہے؟ اس پروگرام میں ایک مولوی صاحب بیٹھے تھے اور ساتھ میں ایک گلوکارہ بیٹھی تھی. اب مولانا صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کے بسنت حرام ہے اور انہوں نے ہندومذہب کا ایک حوالہ دیا کے یہ ان کا تہوار ہے اور ہم مسلمان ہیں. انہوں نے یہ بات اس لئے کی کیونکہ ان کو پیسے دے کر اسی پر بات کرنے کے لئے بلایا تھا. اور انہی باتوں میں وہ یہ بات بھول گئے کہ اس محترمہ نے کپڑے کس قسم کے پہنے تھے. پر انہوں نے سمجھانے کی کوشش نہیں کی کے آپ نے پردہ نہیں کیا یہ غلط ہے انہوں نے صرف یہ سمجھانے کی کوشش کی کے بسنت حرام ہے اور کسی نے کسی کی نہ مانی اور شو ختم ہو گیا

اس مثال کا مقصد صرف یہ ہےکہ جن چیزوں پر ہمیں غور کرنا چاہیے یا کروانا چاہیے ہے ہم نہیں کر رہے. اور میں یہاں قصور وار کسی ایک مولوی یا کسی ایک بندے کو نہیں کہوں گا قصور ہمارا اپنا ہے. میرا قصورہے آپ کا قصورہے کیونکہ ہم ان چیزوں کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ چیزیں نظر ہی نہیں آتیں اور ہماری نظر میں یہ اب غلط نہیں رہا

اور میں یہاں بربادی کا ذمہ دار صرف حکمران یا مولوی کو نہیں کہوں گا کیونکہ ہمارا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا باقی سب کا ہے. ہم سب اپنے اپنے حساب سے اس بربادی میں حصّہ ڈال رھیں ہیں. نمازیں ہم نے چھوڑ دیں، قانون ہم توڑتے ہیں جہاں تک ہم سے ہوتاہے ، اپنی ماؤں کو ہم گالیاں نکالتے ہیں، بڑوں کی عزت ہم نہیں کرتے، اپنے سے کم عمر یا کم عہدہ والوں کو ہم ذلیل کرتے ہیں،زکات دینے سے ہمیں ڈر لگتا ہے، بے حیائی کو ہم نے اپنا لیا ہے تو ہم کیسے اس بات کی توقع کر سکتے ہیں کہ ہم خوشی خوشی زندگی گزارسکتے ہیں. آپ نے اکثر یہ بات سنی ہوگے ہماری بربادی میں یہودیوں کا ہاتھ ہے تو آج میرا اپنے آپ سے اور آپ سب سے یہ سوال ہے ان سب میں سے کیا ایسی چیز ہے جو یہودی ہمیں کرنے پر مجبور کرتے ہیں

اسلام کہتا ہیں امیر لوگ زکات دیں پر، ہمارے ملک کا قانون کہتا ہے ٹیکس کی مد میں غریب پر بوجھ ڈالو. اسلام کہتا ہے نمازپڑھو، پر قانون کہتا ہے کہ ہم فیصلہ کریں گیں کون سی فلم سنیما میں لگنی چاہیے ہے. اسلام کہتا ہے قتل کی سزا قتل ہے، قانون اور یہ دنیا کہتی ہے سزاے موت انسانی حقوق کے خلاف ہے. جس کے گھر سے کوئی قتل ہوا اس سے کوئی پوچھے انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں

غرض یہ کہ ہماری بربادی کا سبب صرف اور صرف اسلام سے دوری ہے. میں یہاں اپنے دل کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے حکمران پاکستان کے حق میں تو بہتر ہو سکتے ہیں مگر اسلام کے حق میں کوئی بہتر نہیں ہے جس کے بارے میں قیامت والے دن پوچھا جائے گا. اور اس دن سواے شرمندگی کے کچھ نہیں ہوگا. دین کے ساتھ چلو دنیا خود اچھی ہوگی

میرا تعلق کسی مولوی طبقے، سیاسی جماعت یا کسی اور تنظیم سے نہیں ہے. میں یہ بات اپنے دل سے کہہ رہا ہوں. میرا علم بہت کم ہے پر جتنا میں نے اسلام کو پڑھا ہے اس سے ایک بات مجھے واضح ہو گئی ہے کہ ہم اسلام کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ملک کو نہیں چلا سکتے اور نہ کبھی ترقی کر سکتے ہیں. سواے رسوائی اور ذلت کے کچھ حاصل نہیں ہوگا. میری دعا ہے الله ہمیں کوئی ایسا حکمران دے جو پہلے دین کی بار کرے اور دین کے مطابق ملک کو چلانے کی کوشش کرے اور ہم سب کو اپنے بتاے ہوے راستے پر چلنے کی توفیق دے

(محمد عثمان)