ریاستی ادارے دستاویزات میں ردوبدل اور ریکارڈ تبدیل کر رہے ہیں: جے آئی ٹی

اکستان کے وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے عدالت عظمیٰ کو بتایا ہے کہ ریاستی ادارے اس معاملے میں مانگی گئی دستاویزات میں نہ صرف ردوبدل کرر ہے ہیں بلکہ اس کے ریکارڈ کو تبدیل بھی کیا جا رہا ہے۔

اسی جے آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو 15 جون بروز جمعرات صبح 11 بجے اسلام آباد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں طلب بھی کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ریاستی اداروں کی جانب سے تحقیقات میں مداخلت کی بات پیر کو جے آئی ٹی کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی گئی تحریری درخواست میں کی گئی ہے۔

درخواست میں تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو بتایا گیا ہے کہ تفتیش کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ’رکاوٹیں‘ کن اداروں یا شخصیات کی طرف سے کھڑی کی جا رہی ہیں۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کی طرف سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو لکھی گئی اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں 60 روز کے اندر تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی۔

سماعت کے دوران تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی پارٹی کی حیثیت سے نہیں بلکہ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے جے آئی ٹی کے الزامات کے بارے میں جواب داخل کریں۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ان الزامات میں کوئی حقیقت ہے تو پھر ایسے افراد کی نشاندہی کریں جو تفتیش میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

مزید جانئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *