اوڑی حملہ:بےگناہ قرار دیے گئے پاکستانی لڑکوں کی واپسی

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی اڈے پر حملے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتاری کے بعد بےگناہ قرار دیے جانے والے دونوں پاکستانی لڑکوں کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کو فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید کو امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز کے سپرد کیا گیا۔

اس موقعے پر دونوں بچوں کے والدین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد واہگہ بارڈر پر موجود تھی۔

خیال رہے کہ ان دو پاکستانی لڑکوں کو انڈین تفتیشی اداروں نے بےگناہ قرار دے دیا تھا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نفیس زکریا کے مطابق فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید کو ستمبر 2016 میں اوڑی میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد پکڑا تھا اور اُن پر حملے میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا تھا۔

اُنھوں نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ ‘اب انڈین تفتیشی اداروں نے دونوں نوجوانوں کو بےگناہ قرار دے دیا ہے اور اُنہیں پاکستان کے حوالے کرنے کے فیصلے سے ہمیں آگاہ کر دیا۔’

ان دونوں لڑکوں سے انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے تفتیش کی اور بدھ کو این آئی اے نے ان لڑکوں کے حوالے سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ ‘فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔’

ادھر فیصل حسین اعوان کے بھائی غلام مصطفی نے انڈیا کے اُس بیان کو مسترد کیا ہے کہ فیصل گھر سے پڑھائی کے معاملے پر ناراض ہوکر نکلاتھا۔

اُنھوں نے بی بی سی اردو کے عبداللہ فاروقی کو بتایا کہ ‘فیصل فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا اور گھر سے اُس پر پڑھائی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ وہ اور اُس کا دوست عید کے بعد تفریح کے غرض سے کہیں نکلے تھے اور غلطی سے بارڈر پار کر گئے تھے۔‘

غلام مصطفی نے بتایا کہ اُن کے بھائی کی گمشدگی کی اطلاع ایک انڈین ٹی وی چینل اور ہندوستان ٹائمز کی خبر سے ملی تھی۔

انڈین تحقیقاتی اداروں کی تحقیق ہر اعتماد کے حوالے سے فیصل اعوان کے بھائی کا کہنا تھا کہ اِس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

’پہلے یہ معلوم ہو جائے کہ اُن سے کس طرح پوچھ گچھ کی گئی اور کس طرح اور کس حال میں رکھا گیا تو پھر اِس بارے میں ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘

BBC URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *